یہ ایک **اردو اسلامی نیوز ویب سائٹ** ہے جہاں علمائے دیوبند کے بیانات، پاکستان و بھارت کی اسلامی خبریں، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ کی تازہ اردو نیوز، مشہور مدارس و جامعات (دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ، جامعہ فاروقیہ) کی معلومات، اسلامی کتب، رسائل اور وفاق المدارس کے نتائج مستند انداز میں شائع کیے جاتے ہیں۔
تازہ ترین
Showing posts with label رضاخانی تحریف نمبر 1. Show all posts
Showing posts with label رضاخانی تحریف نمبر 1. Show all posts
9:36 pm
Barelwi Yahodiyon k Naqshe Qadam Par
Written By Al Asir Channel on 17/10/2011 | 9:36 pm
حضرت اقدس(پیر مہر علی شاہ صاحب) مسجد میں رونق افروز تھے کہ مسمی پائیندہ خان ساکن حسن ابدال کا کوئی مقدمہ تھا جس کی وجہ سے وہ حاضر ہوا اور حضور سے استدعا کررہا تھا اور بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ حضور مقبول بارگا ہ الٰہی ہیں جو کچھ چاہیں اور جس وقت چاہیں خدا سے کراسکتے ہیں حضور نے فرمایا ایسا مت کہو کیونکہ یہ عقیدہ از روئے قرآن و حدیث شریف بالکل صحیح نہیں اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے مقبولوں کو اتنی طاقت بخشی ہے کہ جس امر کی طرف دل سے متوجہ ہوجائیں اللہ تعالی وہ کام کردیتا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں کہ جسوقت چاہیں اور جو کچھ چاہیں ہوجائے کیونکہ رسول علیہ السلام اپنے چچا ابو طالب کے واسطے یہی چاہتے تھے کہ وہ اسلام لاوہیں اور ظہور میں ایسا نہ آیا جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جب نبی کو کل اختیار نہیں تو ولی کو کس طرح ہو یہ تب ہو کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ کہ اللہ تعالی اپنے کسی نبی یا ولی کو سب اختیار دیکر آپ معطل ہو بيٹھے اور یہ بالکل برخلاف عقیدہ اسلام ہے جو لوگ نبی یا ولی کا وسیلہ ترک کرکے براہ راست خدا کو ملنا چاہتے ہیں وہ بھی راہ راست پر نہیں ہیں کیونکہ وہ اس خیال میں شیطان کے پیرو ہیں چنانچہ جب شیطان کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کرے اور تعظیم میرے مقبول کو بجالائے وہ کہنے لگا خدا توہے اس کے درمیان کیا ضرورت ہے لہٰذا اس وجہ سے مردود بارگاہ ایزدی ہوگیا۔غرض کے بندہ بندہ ہے اور خداخدا قلوب بنی آدم خدا کے ہاتھ میں ہے جس امر کو کرنا چاہے اپنے کسی مقبول کادل اس طرف متوجہ کردیتا ہے اور اگرنہ کرنا چاہے تواس کے دل کو اس طرف توجہ ہی نہیں دیتا اسی واسطے دیکھا جاتا ہے کہ اکثر اولیاءکی اولاد بے فیض رہ جاتی ہے اور فیض کوئی اور نصیب والا لیکر چلا جاتا ہے ۔
(مکتوبات طيبات معروفہ بمہر چشتیہ ،ص ۷۲۱،طبع اول ۔مطبوعہ حجازی پرنٹنگ پریس بیرون موری گيٹ لاہور)
چونکہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کا یہ ملفوظ بریلوی خانہ ساز عقیدہ ”مختار کل “ کے سراسر خلاف تھا اس لئے پنڈی سے طبع ہونے والے مکتوبات کے جدیدایڈیشن جو 1996 میں شائع ہوا اس میں اس مکمل عبارت کو بڑوں کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے بالکل حذف کردیا گیا اس مجرمانہ حرکت پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
Labels:
رضاخانی تحریف نمبر 1