یہ ایک **اردو اسلامی نیوز ویب سائٹ** ہے جہاں علمائے دیوبند کے بیانات، پاکستان و بھارت کی اسلامی خبریں، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ کی تازہ اردو نیوز، مشہور مدارس و جامعات (دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ، جامعہ فاروقیہ) کی معلومات، اسلامی کتب، رسائل اور وفاق المدارس کے نتائج مستند انداز میں شائع کیے جاتے ہیں۔

تازہ ترین
Showing posts with label مولانا زاہد الراشدی. Show all posts
Showing posts with label مولانا زاہد الراشدی. Show all posts

قدرتی آفات، اسباب و عوامل اور ہماری ذمہ داری

Written By Al Asir Channel on 14/04/2020 | 9:30 pm

کورونا وائرس کی ابتلاء عام سے جہاں دنیا کا ہر شخص پریشان ہے، وہیں اس ضمن میں قدرتی آفات سے متعلق فکری بحثیں بھی ہمیشہ کی طرح گرم ہیں۔
2005ء میں جب ملک کے شمالی حصے میں خوفناک زلزلہ آیا تھا، تب بھی اس موضوع پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہی سوالات کے جواب میں لکھا گیا اس وقت کا کالم ایک بار پھر پیش خدمت ہے۔ ”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سوال کہ زلزلہ کون لایا ہے بظاہر غیرضروری معلوم ہوتا ہے لیکن مجھے اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ بعض دانشوروں کی طرف سے کھلے بندوں یہ کہا جارہا ہے کہ اس زلزلہ کو اللہ تعالی کی طرف سے تنبیہ یا سزا سمجھنے کی بجائے فطری قوانین اور نیچرل سورسز کی کارروائی سمجھا جائے کہ ایسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور نیچرل سورسز کے حوالے سے یہ معمول کی کارروائی ہے۔ ایک ممتاز دانشور نے ایک بڑے قومی اخبار میں یہ بات تحریر کی تو میں نے انہیں خط لکھا کہ اگر فطری قوانین خودمختار اور خودکار ہیں تو اسے کسی حد تک قبول کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر فطری قوانین اور نیچرل سورسز کے پیچھے کوئی کنٹرولر اور نگران موجود ہے تو یہ بات درست قرار نہیں پاتی۔
میرا مطلب یہ تھا کہ ان صاحب کے نزدیک یہ سادہ اور فطری قوانین ہی کائنات کی اصل قوت محرکہ ہیں اور ان کے پیچھے کسی ذات کے وجود کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔ مگر ہم مسلمان اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات میں کسی درخت کا ایک پتہ بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کرتا۔ اس لیے ہم سب اس کو نیچرل سورسز کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن نہیں بیٹھ سکتے۔ ان محترم دانشور نے اپنے کالم میں میرے اس خط کا ذکر کرکے اس کا یہ جواب دیا کہ نیچرل سورسز ”فیڈ“ کیے ہوئے پروگرام پر چلتی ہیں۔ میں نے گزارش کی کہ اس جواب سے بھی بات نہیں بن رہی، اس لیے کہ فیڈ کرنے والا پروگرام کو فیڈ کرنے کے بعد نہ تو بے اختیار ہوگیا ہے اور نہ ہی نیچرل سورسز کی کارروائی سے بے خبر ہے بلکہ سب کچھ اس کے علم اور مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ بات تو عقیدہ کے طور پر بہر حال تسلیم کرنا ہوگی کہ اس زلزلہ کے دنیاوی اسباب کچھ بھی ہوں لیکن جو کچھ ہوا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ہوا ہے اور اس کے علم اور حکم کے مطابق ہوا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ زلزلہ، سیلاب، طوفان، اور دیگر آفتیں کیوں آتی ہیں؟ ظاہر ہے کہ ان کے کچھ ظاہری اسباب بھی ہوں گے۔ ہمارے سائنس دان اور ماہرین ان اسباب کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی نشاندہی بھی کرتے ہیں، ہمیں ان میں سے کسی بات سے انکار نہیں ہے۔
اسباب کے درجے میں ہم ہر معقول بات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے گزشتہ اقوام پر آنے والی ان آفتوں، زلزلوں، آندھیوں، طوفانوں، وباؤں، اور سیلابوں کا ذکر ان اقوام پر اللہ تعالی کی ناراضگی کے اظہار کے طور پر کیا ہے اور ان قدرتی آفتوں کو ان قوموں کے لیے خدا کا عذاب قرار دیا ہے۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے اپنی امت میں آنے والی قدرتی آفتوں کا پیش گوئی کے طور پر تذکرہ فرمایا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے سزا یا تنبیہ کے طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔
ان میں سے چند احادیث کا یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نیکی کا حکم ضرور دیتے رہنا، لوگوں کو برائی سے ضرور منع کرتے رہنا، اور ظلم کرنے والے کا ہاتھ پکڑ کر اسے ظلم سے ضرور روکنا۔ ورنہ اللہ تعالی تمہارے دلوں کو ایک دوسرے پر مار دے گا اور تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جیسا کہ پہلی امتوں پر کی تھی۔
ترمذی شریف میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم! تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ضرور سرانجام دیتے رہنا، ورنہ تم پر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب نازل ہوگا، پھر تم دعائیں کرو گے تو تمہاری دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔
ابوداؤد شریف میں سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لوگ معاشرہ میں منکرات یعنی نافرمانی کے اعمال کو دیکھیں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں اور جب کسی ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں اور اس کا ہاتھ پکڑا کر اسے ظلم سے نہ روکیں تو قریب ہے کہ سب پر خدا کا عذاب آجائے۔
ابن ماجہ شریف میں حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں بعض لوگ شراب پی رہے ہوں گے اور اس کا نام انہوں نے کچھ اور رکھا ہوگا، مردوں کے سروں پر لگانے کے آلات بج رہے ہوں گے، اور گانے والیاں گا رہی ہوں گی اور اللہ تعالی انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کردے گا۔
ترمذی شریف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غنیمت کے مالک کو ہاتھوں ہاتھ لوٹا جانے لگے، امانت کو غنیمت کا مال سمجھ لیا جائے، زکوۃ کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے، تعلیم حاصل کرنے میں دین کے مقصد کو پس پشت ڈال دیا جائے، خاوند اپنی بیوی کا فرمانبردار ہوجائے، بیٹا اپنی ماں کا نافرمان ہوجائے، بیٹا اپنے دوست کو قریب کرے اور باپ کو خود سے دور رکھے، مسجدوں میں شور و غل ہونے لگے، قبیلہ کا سردار اس کا فاسق شخص ہو، قوم کا لیڈر اس کا رذیل ترین شخص ہو، کسی شخص کی عزت صرف اس کے شر سے بچنے کے لیے کی جانے لگے، ناچنے والیاں اور گانے بجانے کے آلات عام ہوجائیں، شرابیں پی جانے لگیں، اور امت کے بعد والے لوگ پہلے لوگوں پر لعن طعن کرنے لگیں تو پھر خدا کے عذاب کا انتظار کرو جو سرخ آندھی، زلزلوں، زمیں میں دھنسائے جانے، شکلوں کے مسخ ہونے، پتھر برسنے، اور ایسی دیگر نشانیوں کی صورت میں اس طرح لگا تار ظاہر ہوگا جیسے کسی ہار کی ڈوری ٹوٹ جائے اور موتی لگا تار گرنے لگیں۔
اسی طرح آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ یہ قدرتی آفتیں پہلی امتوں کی طرح اس امت میں بھی آئیں گی اور اللہ تعالی کی ناراضگی کا اظہار ہوں گی۔ اس لیے زلزلہ کے ظاہری اسباب پر ضرور نظر کی جائے اور ان کے حوالے سے بچاؤ اور تحفظ کی ضرور کوشش کی جائے لیکن اس کے ساتھ بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اس کے باطنی اسباب اور روحانی عوامل کی طرف بھی توجہ دی جائے اور ان کو دور کرنے کے لیے بھی محنت کی جائے۔ جب ہم یہ بات کہتے ہیں تو اس پر ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سزا اور تنبیہ تو مجرموں کو ہوتی ہے، جو لوگ جرائم میں شریک نہیں ہیں ان کا کیا قصور ہے اور معصوم بچوں اور عورتوں کا کیا جرم ہے کہ وہ بھی بہت بڑی تعداد میں زلزلہ کی زد میں آگئے ہیں۔ اس کے جواب میں گزارش ہے کہ یہ بات بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ارشادات میں واضح فرمائی ہے۔ جب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والی ان آفتوں کا ذکر کیا تو یہ سوال خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا گیا تھا کہ کیا نیک لوگوں پر بھی یہ عذاب آئے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی قوم پر خدا کا عمومی عذاب آتا ہے تو نیک و بد سب اس کا شکار ہوتے ہیں۔ البتہ قیامت کے دن سب لوگ اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔
مسلم شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے کہ میری امت کا ایک شخص حرم مکہ میں پناہ لیے ہوگا اور میری امت کا ہی ایک لشکر اس کے تعاقب میں مکہ مکرمہ کی طرف یلغار کرے گا۔ لیکن ابھی وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے کہ سب لوگ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ ان میں بہت سے لوگ غیرمتعلق بھی ہوں گے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں مستبصر بھی ہوں گے یعنی وہ لوگ جو اپنی مرضی کے ساتھ شریک ہوں گے، کچھ مجبور بھی ہوں گے جو کسی مجبوری کی وجہ سے ساتھ ہوں گے، اور ابن السبیل یعنی راہ گیر بھی ہوں گے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا لیکن جب زمین پھٹے گی تو سب لوگ اس میں سما جائیں گے، البتہ قیامت کے دن سب لوگ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔
بخاری شریف میں ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے کسی حصے پر آنے والے عمومی عذاب کا ذکر فرمایا تو ام المومنین نے سوال کیا کہ کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ایسا ہوگا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں جب خباثتوں کی کثرت ہوجائے گی تو ایسا ہی ہوگا۔
مسلم شریف میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اس نوعیت کی روایت ہے کہ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جو شخص نافرمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہوگا، کیا اس پر بھی عذاب آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں دنیا کے عذاب میں سب ایک ساتھ ہوں گے، پھر قیامت کے دن ہر شخص اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔“
چنانچہ یہ اللہ تعالی کا قانون اور ضابطہ ہے جس کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضاحت فرما رہے ہیں۔ اس کے مطابق ہمیں جہاں یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، وہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ناراضگی کا اظہار ہے، سزا ہے، تنبیہ ہے، اور عبرت کے لیے ہے جس سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔

اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان عالمی کشمکش کا ایک منظر

ایک قومی روزنامے میں جولائی 2016ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں:
”واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکرنیوٹ کنگرچ نے کہا ہے کہ جو مسلمان شریعت پر یقین رکھتے ہیں انہیں امریکا سے نکال دیا جائے۔ اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پابندی کا مطالبہ کرچکے ہیں، جبکہ ایوان نمائندگان (کانگریس) کے سابق اسپیکرنیوٹ کنگرچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مغربی تہذیب حالت جنگ میں ہے، شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی، ایسے روشن خیال مسلمان جو شریعت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتے ان کو ہم بخوشی قبول کریں گے۔ نیوٹ کنگرچ نے امریکا میں مسجدوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ شدت پسند تنظیموں کی ویب سائٹس پر جانے والے افراد کو جیل بھیجنے کی تجویز بھی دی ہے۔“
امریکی کانگریس کے سابق اسپیکر کا بیان اس حوالہ سے کسی مغربی لیڈر کا پہلا بیان نہیں ہے بلکہ اس سے قبل اس نوعیت کے بیانات متعدد امریکی اور یورپی راہنماؤں کی طرف سے سامنے آچکے ہیں، البتہ نیوٹ کنگرچ کے اس بیان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی ڈپلومیسی کا لحاظ کیے بغیر اور کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر دو تین چار باتیں واضح طور پر کہہ دی گئی ہیں:
ایک یہ کہ مغربی تہذیب کو اس وقت حالت جنگ کا سامنا ہے،
دوسری یہ کہ اسلامی شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی،
تیسری یہ کہ شریعت کے قوانین پر یقین رکھنے والے مسلمان مغرب کے لیے قابل قبول نہیں ہیں،
اور چوتھی بات یہ کہ مغرب جس روشن خیالی کی بات کرتا ہے اس کا مطلب شریعت کے احکام و قوانین سے دستبرداری ہے اور اس سے کم پر مغرب راضی نہیں ہے۔
ہمارے بعض دانشور ابھی تک مغرب اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی موجودہ کشمکش کو تہذیبی اور ثقافتی جنگ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تہذیبی کشمکش نہیں ہے بلکہ یہ مفادات کی جنگ ہے، اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان کشمکش ہے جس میں مسلم ممالک و اقوام ترقی میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مغلوب ہیں اور وہ سائنسی و معاشی ارتقا میں مغربی سوسائٹی کا ساتھ نہ دینے کے باعث پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن نیوٹ کنگرچ نے یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کردی ہے کہ یہ تہذیبی جنگ اور سولائزیشن وار ہے جس میں ایک طرف مغربی تہذیب و ثقافت ہے جو سائنسی ترقی، عسکری بالادستی، معاشی تسلط اور میڈیا پر اجارہ داری کی وجہ سے دنیا کے بیشتر علاقوں اور معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جبکہ دوسری طرف اسلامی تہذیب ہے جو پوری قوت کے ساتھ اپنی بقا بلکہ فروغ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ جنگ اب دو ٹوک انداز میں واضح ہوتی جارہی ہے اور یہ بات نوشتہ دیوار بن چکی ہے کہ مستقبل میں ان میں سے وہی تہذیب انسانی سوسائٹی کی قیادت کرے گی جو زیادہ سخت جان ہوگی اور جو انسانی سوسائٹی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہوگی، یہ صرف ہمارا دعویٰ نہیں بلکہ فطرت کا اصول اور تاریخی عمل کا تقاضہ بھی یہی ہے۔
امریکی کانگریس کے سابق اسپیکر کی یہ بات بھی بطور خاص قابل توجہ ہے کہ اسلامی شریعت اور مغربی تہذیب میں مطابقت موجود نہیں ہے، جو ہمارے ان دانشوروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو گزشتہ دو صدیوں سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اسلام کو مغربی تہذیب کے مطابق ڈھالا جائے اور اسلامی احکام و قوانین کی ایسی تعبیرات تلاش کی جائیں جو انہیں مغربی تہذیب کے احکام و قوانین کے ساتھ ہم آہنگ دکھا سکیں۔ ہمارے ان دانشوروں کو یہ سادہ سی بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ اسلامی تہذیب و تمدن اور معاشرت کی بنیاد وحی آسمان اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر ہے، جبکہ مغربی تہذیب کی بنیاد آسمانی تعلیمات کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ”کتاب انزلناہ الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور“ یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لیے اتاری ہے تا کہ آپ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنی اور نور کی طرف لے آئیں۔
گویا اسلام کے نزدیک آسمانی تعلیمات کی طرف رجوع روشنی اور روشن خیالی کہلاتا ہے، جبکہ مغرب کے نزدیک احکام شریعت سے انحراف اور دستبرداری کا کام روشن خیالی ہے۔ یعنی جو چیز اسلام کے نزدیک نور ہے وہ مغرب کے ہاں ظلمت کہلاتی ہے، اور جس چیز کو مغرب روشنی کہتا ہے وہ اسلام کے نزدیک جہالت اور تاریکی سے عبارت ہے۔ اس لیے ان دونوں کے درمیان مفاہمت و مطابقت کی کوئی راہ تلاش کرنا خام خیالی اور کارِ لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ خود مغرب اسلامی شریعت کو کسی بھی درجہ میں برداشت کرنے اور شرعی احکام و قوانین کو خود مسلم ممالک کے داخلی ماحول میں عملداری کا موقع دینے کے لیے بھی کسی صورت میں تیار نہیں ہے، اور اس کا طرز عمل اس حوالہ سے ہٹ دھرمی کی حد تک بے لچک ہے جس کا اظہارڈونلڈ ٹرمپ اور نیوٹ کنگرچ جیسے لیڈروں کی زبانوں سے وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔ اس صورتحال کا اصل تقاضہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیوٹ کنگرچ کے بیانات کی مذمت میں وقت ضائع کرنے کی بجائے انہیں ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کرکے مسلمانوں کے لیے صحیح سمت راہنمائی کا راستہ تلاش کیا جائے۔
ہم ایک عرصہ سے مسلمانوں کے فکری حلقوں اور علمی مراکز سے یہ گزارش کررہے ہیں کی مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کے درمیان موجود عالمی کشمکش کو علمی و فکری طور پر واضح کرنے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے، اور خاص طور پر مغربی تہذیب کی بنیاد پر تشکیل پانے والے مروجہ عالمی نظام اور اس کے احکام و قوانین کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرکے یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے دائرے میں کون سی بات قابل قبول ہے اور کس بات کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ مغرب کا موقف تو بالکل واضح ہے کہ وہ شریعت کی عملداری کو کسی درجہ میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس کے جواب میں ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ:
آسمانی تعلیمات اور انسانی سوسائٹی کے اجتماعی مفاد کی بنیاد پر ہم مغربی تہذیب کی غلطیوں کی نشاندہی کریں، مغربی تہذیب سے انسانی سوسائٹی کو پہنچنے والے نقاصانات کو واضح کریں، اور اس کے مقابلہ میں اسلامی شریعت کی ضرورت و افادیت کو دلیل اور منطق کے ساتھ سامنے لائیں۔
خدا کرے کہ ہمارے فکری حلقے، دینی مراکز اور علمی مراجع اس ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے کسی عملی پیشرفت کا اہتمام کرسکیں، آمین یا رب العالمین۔
 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel