Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband

یہ ایک **اردو اسلامی نیوز ویب سائٹ** ہے جہاں علمائے دیوبند کے بیانات، پاکستان و بھارت کی اسلامی خبریں، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ کی تازہ اردو نیوز، مشہور مدارس و جامعات (دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ، جامعہ فاروقیہ) کی معلومات، اسلامی کتب، رسائل اور وفاق المدارس کے نتائج مستند انداز میں شائع کیے جاتے ہیں۔

تازہ ترین

حماس نے اپنے ترجمان ابوعبیدہ کی شہادت کی باقاعدہ تصدیق کردی - Al Asir Channel

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 29/12/2025 | 9:30 pm

Hamas has officially confirmed the martyrdom of its spokesperson, Abu Ubaida.

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ابو عبیدہ اور محمد سنوار سمیت کئی اعلیٰ کمانڈرز کی شہادت کی تصدیق کر دی

غزہ | 29 دسمبر 2025

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ کتائبِ شہید عزالدین القسام نے اپنے ترجمان ابو عبیدہ اور غزہ میں تنظیم کے اس وقت کے سربراہ محمد سنوار کی شہادت کی باضابطہ اور حتمی تصدیق کر دی ہے۔ یہ اعلان پیر کے روز جاری کیے گئے ایک تفصیلی بیان میں کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ تمام رہنما رواں برس اسرائیل کے ساتھ جاری شدید اور طویل جنگ کے دوران شہید ہوئے۔

حماس کے مطابق ابو عبیدہ اور محمد سنوار ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے نہایت مشکل اور نازک حالات میں القسام بریگیڈز کی قیادت کی اور اسرائیلی افواج کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان شہادتوں کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

دیگر اہم عسکری رہنماؤں کی شہادت

القسام بریگیڈز کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیلی افواج کے خلاف لڑتے ہوئے درج ذیل اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوئے:

  • محمد شبانہ (ابو انس) — کمانڈر، لواءِ رفح
  • حکم العیسیٰ (ابو عمر) — سینئر عسکری کمانڈر
  • رائد سعد (ابو معاذ) — سربراہ شعبۂ تیاری (تصنیع) اور سابق کمانڈر شعبۂ عملیات

حماس کے مطابق یہ تمام رہنما میدانِ جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود رہے اور مزاحمتی کارروائیوں کی براہِ راست قیادت کرتے رہے۔

ابو عبیدہ کی شہادت کی تفصیل

حماس نے اپنے بیان میں بتایا کہ ابو عبیدہ کو اگست 2025 میں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران شدید زخمی کیا گیا تھا۔ وہ کئی ہفتوں تک زیرِ علاج رہے، تاہم زخموں کی شدت کے باعث بالآخر شہید ہو گئے۔ ابو عبیدہ کا آخری عوامی بیان ستمبر کے اوائل میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی اور فلسطینی آبادی کی جبری نقل مکانی ہوئی۔

ابو عبیدہ کو حماس کی ایک مضبوط اور نمایاں آواز سمجھا جاتا تھا۔ وہ جنگی صورتحال، اسرائیلی حملوں، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مسلسل بیانات جاری کرتے رہے، خصوصاً اس مختصر جنگ بندی کے دوران جسے بعد میں اسرائیل نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

محمد سنوار سے متعلق پس منظر

بیان میں تصدیق کی گئی کہ محمد سنوار، جو سابق حماس رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے، رواں سال اسرائیلی افواج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران شہید ہوئے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے پہلے محمد سنوار اور بعد ازاں تین ماہ بعد ابو عبیدہ کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم حماس کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق اب جا کر سامنے آئی ہے، جسے تنظیم نے سیکیورٹی وجوہات اور جنگی حالات سے جوڑا ہے۔

گزشتہ دو برسوں میں شہید ہونے والے حماس کے قائدین

حماس کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں تنظیم کے کئی اعلیٰ عسکری اور سیاسی رہنما شہید ہوئے، جن میں شامل ہیں:

  • سابق سیاسی سربراہ یحییٰ سنوار
  • عسکری کمانڈر محمد الضیف
  • سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ - جنہیں تہران میں شہید کیا گیا

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان شہادتوں کے باوجود فلسطینی مزاحمت جاری رہے گی اور القسام بریگیڈز اپنی قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور عسکری صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں گی۔



دیگر اہم خبریں

کابل دھماکہ: افغان طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے معاون مولوی نعمان شہید، بیٹا زخمی

مسجد الحرام میں سکیورٹی اہلکار کی بہادرانہ کوشش، ایک شخص کی جان بچا لی گئی

کابل دھماکہ:افغان طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے معاون مولوی نعمان شہید، بیٹا زخمی - Kabul Blast

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 28/12/2025 | 11:26 pm

Kabul Blast | Al Asir Channel

کابل دھماکہ: مولوی نعمان شہید، بیٹا زخمی

کابل: کابل میں جمعے کے روز ایک دھماکے کے نتیجے میں افغان طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے معاون مولوی نعمان شہید ہو گئے، جبکہ ان کا بیٹا زخمی ہوا۔ واقعہ کابل کے علاقے بوٹخاک میں مولوی نعمان کے گھر کے اندر پیش آیا۔

رپورٹس کے مطابق دھماکے کے باعث مولوی نعمان موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ ان کے بیٹے کو قریبی اسپتال منتقل کر کے علاج جاری ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں فوری طور پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

دھماکے کی ممکنہ وجہ

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ گیس سلنڈر میں نصب کسی مواد کے پھٹنے سے ہوا۔ تاہم واقعے کی مکمل وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

واقعہ کابل میں موجود مقامی سیکیورٹی اور ہنگامی خدمات کے لیے ایک اہم اطلاع ہے اور متعلقہ حکام نے علاقے میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔


مولوی نعمان کی شہادت اور ان کے بیٹے کے زخمی ہونے کے واقعے نے کابل میں ایک بار پھر حفاظتی
حساسیت کو اجاگر کیا ہے۔ مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں سامنے آنے کا امکان ہے۔

یہ خبر پڑھیں



Home Page

مسجد الحرام میں خودکشی کی کوشش، سکیورٹی گارڈ کی بروقت کارروائی - Breaking News – Masjid al-Haram

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 27/12/2025 | 10:42 pm

مسجد الحرام میں سکیورٹی اہلکار کی بہادرانہ کوشش، ایک شخص کی جان بچا لی گئی

مسجد الحرام

مکہ مکرمہ میں واقع مسجد الحرام میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موقع پر موجود سکیورٹی گارڈ نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے اس شخص کو نیچے گرنے سے روکنے کی کوشش کی۔

سکیورٹی گارڈ کی اس بروقت کارروائی کے دوران وہ خود بھی زخمی ہو گیا۔ واقعے کے فوراً بعد دونوں افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں مزید علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مسجد الحرام کی انتظامیہ کے مطابق واقعے پر فوری ردِعمل دیا گیا، سکیورٹی اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا اور کسی بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ زائرین کی حفاظت کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنا دیے گئے ہیں۔ ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مقدس مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی اور فوری ردِعمل کس قدر اہم ہے۔

Watch Video

مسجد الحرام، مکہ مکرمہ، بریکنگ نیوز، خودکشی کی کوشش، سکیورٹی گارڈ، تازہ خبریں، سعودی عرب نیوز

عثمان ہادی کون تھے اور ان کے قتل نے بنگلادیش میں ہنگامے کیوں بھڑکا دیے؟ - osman hadi Bangladesh

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 19/12/2025 | 11:44 pm

Osman Hadi Bangladesh

بنگلادیش میں طلبا رہنما عثمان ہادی کے قتل پر ملک گیر احتجاج، جمہوری بحران شدت اختیار کر گیا

  ڈھاکا، 19 دسمبر 2025

بنگلادیش میں 2024 کی طلبا تحریک کے نمایاں رہنما عثمان ہادی کے قتل نے ملک بھر میں سیاسی اور معاشرتی صورتحال کو کشیدہ کر دیا ہے۔ عثمان ہادی، جو انقلاب منچہ (Platform for Revolution) کے ترجمان اور طلبا تحریک کے سرکردہ رہنما تھے، 12 دسمبر کو ڈھاکا میں اپنی انتخابی مہم کے دوران موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کے ہاتھوں شدید زخمی ہوئے تھے۔ انہیں فوری طور پر ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، اور بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور کے جنرل اسپتال کے نیورو سرجیکل آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔ تاہم 19 دسمبر کو وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور انتقال کر گئے۔

عثمان ہادی کی موت کو صرف ایک ذاتی قتل نہیں بلکہ جمہوری آواز کو دبانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے قتل نے طلبا، نوجوان اور سیاسی کارکنان کو ملک گیر احتجاج کی طرف مائل کیا، جس کے بعد ڈھاکا، چٹاگانگ اور دیگر بڑے شہروں میں پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے۔


عثمان ہادی کون تھے؟

32 سالہ عثمان ہادی بنگلادیش میں 2024 کی طلبا تحریک کے سرکردہ رہنماوں میں شامل تھے۔ وہ انقلاب منچہ کے ترجمان تھے، جو سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا ایک اہم پلیٹ فارم تھا۔ عثمان ہادی نے ملک میں جمہوری اقدار اور سیاسی اصلاحات کے لیے جدوجہد کی اور آئندہ فروری 2026 کے انتخابات میں ڈھاکا کے بجیوئے نگر حلقے سے پارلیمنٹ کے امیدوار بننے کی تیاری کر رہے تھے۔

عثمان ہادی نے بھارت کے کردار پر بھی کھل کر تنقید کی، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ شیخ حسینہ واجد نے طلبا تحریک کے بعد بھارت سے سیاسی مدد حاصل کی۔ ان کی سیاست کا محور طلبا حقوق، جمہوری اصلاحات اور ملک میں آمریت کے خاتمے پر مرکوز تھا۔


قتل کے حالات

12 دسمبر کو عثمان ہادی انتخابی سرگرمیوں کے دوران بیٹری سے چلنے والے آٹو رکشے میں سفر کر رہے تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے قریب آ کر ان کے سر پر گولیاں چلائیں۔ فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے دماغی تنوں (Brain Stem) کو شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی۔ سنگاپور میں علاج کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے اور 19 دسمبر کو انتقال کر گئے۔

یہ واقعہ نہ صرف بنگلادیش میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا گیا بلکہ نوجوانوں میں جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے شدید ردعمل بھی پیدا کیا۔


احتجاج اور پرتشدد واقعات

عثمان ہادی کی موت کے بعد ڈھاکا، چٹاگانگ اور دیگر شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ طلبا، نوجوان اور سیاسی کارکنان نے شاہراہوں پر نکل کر حکومت کے خلاف سلوگنز لگائے اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کے سربراہان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

پر تشدد واقعات میں:

  • کئی مظاہرین نے اخبارات پروتھوم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر حملے کیے، توڑ پھوڑ اور آگ لگائی۔

  • بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن (چٹاگانگ) پر پتھراؤ اور حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

  • مشتعل مظاہرین نے ثقافتی ادارے Chhayanaut کے عمارت پر بھی حملہ کیا اور اسے نقصان پہنچایا۔

  • بعض شہروں میں سڑکیں بند کی گئیں، ٹائر جلائے گئے اور ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔


حکومت کا ردعمل

بنگلادیشی حکومت نے واقعہ کے بعد فوری طور پر پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کو کارروائی پر لگایا اور مرکزی ملزمان کی تلاش شروع کی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی اور ملزمان کی گرفتاری پر 50 لاکھ ٹکہ انعام کا اعلان کیا۔ اب تک کم از کم 20 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، تاہم مرکزی حملہ آور ابھی گرفتار نہیں ہوئے۔

عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے عثمان ہادی کی موت کو "قوم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان" قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوف اور خونریزی کے ذریعے بنگلادیش کے جمہوری سفر کو نہیں روکا جا سکتا۔ حکومت نے جمعہ کے بعد مساجد میں خصوصی دعاؤں اور ہفتے کے روز قومی سوگ کا اعلان بھی کیا۔


مظاہرین اور نوجوان سیاسی رہنما الزام لگا رہے ہیں کہ حملہ آور بھارت فرار ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ بیانیہ زور پکڑ چکا ہے کہ بھارت بنگلادیش کی داخلی سیاست میں مداخلت کرتا رہا اور شیخ حسینہ واجد کو گزشتہ برسوں میں مکمل حمایت فراہم کی۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ جب تک ہادی کے قاتل بھارت سے واپس نہیں کیے جاتے، احتجاج ختم نہیں ہوگا۔

بہار میں وزیراعلیٰ کا مسلم خاتون کا نقاب کھینچنا - شرمناک واقعہ

بھارت کے ریاست بہار میں وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب کے دوران مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب زبردستی کھینچ دیا، جو نہ صرف ایک ذاتی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ خواتین کے وقار اور مذہبی شناخت پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ یہ واقعہ انسانی وقار اور معاشرتی اقدار کے لحاظ سے انتہائی شرمناک ہے۔

ماہرین، صحافیوں اور سیاسی حلقوں نے اس عمل کو شدید غیر مناسب اور قابل مذمت قرار دیا۔ سیاسی اور سماجی شخصیات نے کہا کہ یہ اقدام خواتین کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مسلمان کمیونٹی نے اس واقعے کی سخت مذمت کی اور  کہا کہ حجاب اور نقاب پر حملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔


واقعے کے بعد لکھنؤ میں سماجی وادی پارٹی کی رہنما نے وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ متاثرہ خاتون ڈاکٹر نے بھی احتجاجاً سرکاری ملازمت قبول نہ کرنے کا اعلان کیا، جس سے معاملہ قانونی اور سماجی بحث کا موضوع بن گیا۔


بھارت میں مسلمانوں کی خواتین اکثر حجاب اور نقاب کے حق پر ہراساں کی جاتی ہیں اور ایسے واقعات معاشرتی تناؤ اور خوف کا سبب بنتے ہیں۔ یہ واقعہ اس دیرینہ مسئلے کی یاد دہانی ہے۔

 

بھارت کے مسلمانوں کو اب بیدار ہونا ہوگا اور اپنی غیرت، شناخت اور وقار کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ خاموشی نے ہمیشہ ظلم کو طاقت دی ہے، جبکہ باوقار آواز نے تاریخ بدلی ہے۔ حجاب، نقاب اور مذہبی آزادی پر حملے دراصل مسلمان عورت کی عزت اور پوری امت کی خودداری پر حملہ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارتی مسلمان متحد ہو کر، آئینی اور پُرامن طریقے سے، ہر زیادتی کے خلاف کھل کر کھڑے ہوں، اپنی خواتین کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور دنیا کو بتائیں کہ مسلمان نہ کمزور ہیں، نہ بے حس، بلکہ اپنے وقار اور ایمان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

پاکستان کا داعش خراسان کے ترجمان (سلطان عزیز عزام) کی گرفتاری کا دعویٰ، تنظیم کی میڈیا سرگرمیاں معطل -

 داعش ترجمان کی گرفتاری، خراسان کی میڈیا اور سرگرمیاں بھی معطل

پاکستان کا داعش خراسان کے ترجمان کی گرفتاری کا دعویٰ، تنظیم کی میڈیا سرگرمیاں معطل

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی یوم وفات پر حکومت سے عام تعطیل کا مطالبہ || سنی علماء کونسل بلوچستان

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 29/11/2025 | 10:47 pm

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی یوم وفات پر حکومت سے عام تعطیل کا مطالبہ

 14 دسمبر، 22 جمادی الثانی کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی یوم وفات کے موقع پر مختلف تعلیمی، مذہبی اور سماجی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔

کوئٹہ (اہلسنت میڈیا) – سنی علماء کونسل بلوچستان کے امیر، مولانا محمد رمضان مینگل نے اعلان کیا ہے کہ 14 دسمبر، 22 جمادی الثانی کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی یوم وفات کے موقع پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ریلیاں 

اور جلوس نکالنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

مولانا رمضان مینگل نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خصوصی ایام پر عام تعطیل کا اعلان کرے تاکہ دین دوستی اور صحابہ کرام کے احترام کا عملی ثبوت دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا:

"نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخصیت خلفائے راشدین، نواسہ رسول اور صحابہ کرام ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی قیادت میں مسلم فوجیں رسالت محمدی ﷺ کی امانت کو لے کر عراق و شام تک پہنچیں اور اپنے مخلصانہ جہاد کے ذریعے حق و انصاف کی پہچان قائم کی۔ جہاں ان کے سپہ سالاروں کے جھنڈے لہرا رہے تھے وہاں حی علی الفلاح کی صدائیں گونجنے لگیں۔"

اس موقع پر جماعت کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عظمت اور صحابہ کرام کے کردار پر روشنی ڈالی۔

بلوچستان بھر کے اسلامی حلقے اس موقع پر خصوصی ریلیوں اور جلوسوں کا انعقاد کریں گے تاکہ نوجوان نسل کو صحابہ کرام کی قربانیوں اور دین اسلام کے لیے ان کے عظیم کردار سے روشناس کرایا جا سکے۔

افغانستان زلزلہ: ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں، تین ہزار سے زائد زخمی - afghanistan earthquake 2025

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 02/09/2025 | 2:15 am

afghanistan-earthquake-2025 

افغانستان زلزلہ: ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں، تین ہزار سے زائد زخمی 

کابل: افغانستان کے صوبہ کنڑ میں رات گئے آنے والے شدید زلزلے نے بڑی تباہی مچائی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 800 افراد جاں بحق اور تین ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں دیہات مکمل طور پر ملبے تلے دب گئے ہیں۔

 

زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6 ریکارڈ کی گئی، جس کا مرکز جلال آباد کے قریب 8 کلو میٹر زیر زمین تھا۔ بعد ازاں پانچ آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے جن کی شدت 4.3 سے 5.2 کے درمیان رہی۔

 

قدرتی آفات سے نمٹنے کے افغان ادارے کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان نورگل، سواکئی، واٹاپور، منوگی اور چپہ درہ اضلاع میں ہوا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب بھی سیکڑوں افراد ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ننگرہار ریجنل اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ 

اسلامی امارتِ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حکام کو متاثرین کی جانیں بچانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں

صحابہ کرام کی وفاداری تاریخ اسلام کی روشن مثال ہے، سنی علما کونسل 


زلزلے کے جھٹکے ننگرہار، لغمان، کابل اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی محسوس کیے گئے۔

 

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے افغانستان اور پاکستان میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔



مستونگ؛ میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل خودکش دھماکا

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 29/09/2023 | 3:29 pm


مستونگ؛ میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل خودکش دھماکا، ڈی ایس پی سمیت 35 افراد جاں بحق 

ایکسپریس نیوز کے مطابق مستونگ میں جشن میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل مسجد کے قریب خودکش دھماکے میں 35 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق بازار میں ہونےو الے دھماکے میں ابتدائی طور پر متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی۔ اسسٹنٹ کمشنر مستونگ  کے مطابق دھماکا مدینہ مسجد کے قریب ہوا، جہاں لوگ عیدمیلاد النبیؐ کے جلوس میں شرکت کرنے کے لیے جمع ہورہے تھے۔
دھماکے میں 35 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں ڈی ایس پی محمد نواز گشکوری بھی شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مدینہ مسجد سے جمع ہونے کے بعد لوگوں نے جلوس میں شرکت کرنا تھا۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع  پر پہنچیں جہاں سے زخمیوں کو نواب غوث بخش اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق مستونگ کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے بعد مستونگ کے علاوہ کوئٹہ کے سول اسپتال میں بھی ا یمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق تمام ڈاکٹرز ، فارماسسٹ ، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ایمرجنسی ڈیوٹی پر طلب کرلیے گئے ہیں۔

ڈی ایچ او مستونگ ڈاکٹر رشید کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔

پولیس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں اور دھماکے سے متعلق تعین کیا جا رہا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول تھا یا خودکش۔

نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان نے مستونگ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخریب کار عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں دہشت گردی کے خلاف مکمل اتحاد پیدا کرنا ہوگا ۔

نگران وزیر داخلہ بلوچستان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات ہورہی ہیں، ابتدائی شواہد اور تحقیقات کے مطابق یہ خود کش حملہ تھا۔

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی کے مطابق حکومت بلوچستان کی ہدایت پر ریسکیو ٹیموں کو مستونگ روانہ کردیا گیا ہے ۔  شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جارہا ہے  اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ مستونگ میں دھماکا ناقابل برداشت ہے ۔ غیر ملکی آشیرباد سے دشمن بلوچستان میں مذہبی رواداری اور امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔

آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ کے مطابق مستونگ دھماکے میں ڈی ایس پی نے خودکش بمبار کو روکتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقصد صوبے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان کی تمام تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

بلوچستان میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان

صوبائی حکومت نے بلوچستان میں سانحہ مستونگ پر تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ نگراں وزیر اطلاعات کے مطابق سوگ منانے کا مقصد شہدا کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی ہے۔ تین روزہ سوگ کے دوران سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔


click Here

پاکستان:جمیعت علمائے اسلام کے جلسے میں دھماکہ۔40 افراد شہید

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 31/07/2023 | 12:52 am



 پشاور :پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے،پشاور سے موصولہ خبروں کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے زیر اہتمام کنونشن کے دوران دھماکے میں 40 افراد جان سے گئے۔



یہ خبر بھی پڑھیں

مولانا احمد لدھیانوی کی خار باجوڑ جمعیت علمائے اسلام کنونشن میں دھماکے کی مذمت




جے یو آئی کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ نے بتایا کہ دھماکہ جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ کنونشن میں مجھے بھی شرکت کرنا تھی لیکن آخری لمحے میں میں نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔


انہوں نے کہا کہ ’دھماکہ جہاد نہیں فساد ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمی کو ہسپتال منتقل کر رہے ہیں۔  دھماکے میں ان کا کیمرہ مین سمیع اللہ بھی شدید زخمی ہوا ہے۔ دوسری جانب جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ میں جے یوآئی کے ورکر کنونشن کے دوران دھماکے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔


پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم اور وزیراعلی خیبرپختونخوا سے اس افسوس ناک واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر عبدالغفورحیدری نے باجوڑ دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ ۔مولانا عبدالغفورحیدری کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات خراب کیے جارہے ہیں۔


ترجمان جمعیت علما اسلام خیبر پختوا عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی ورکرز کنونشن میں 4 بجے کے قریب دھماکا ہوا، مولانا لائق کی تقریرکے دوران دھماکا ہوا۔

عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ ممبر قومی اسمبلی مولانا جمال الدین اور سینیٹر عبدالرشید بھی کنونشن میں موجود تھے، جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیاء اللّٰہ دھماکے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے میں بم دھماکہ انتہائی قابل مذمت ہے، حملے کا مقصد ملک میں افراتفری کی صورتحال پیدا کرنا ہے۔


جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل نے واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے بات کی اور انہیں تفصیل سے آگاہ کیا۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔ فضل نے حامیوں سے کہا کہ آپ لوگ فوراً ہسپتال پہنچیں اور زخمیوں کو خون فراہم کریں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق یہ حملہ ملک کو کمزور کرنے کی ایک اور سازش ہے۔ حکومت دہشت ۔گردوں سے نمٹنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے

کوئٹہ؛ کنویں میں ڈوبنے والے کم سن بچے کو بچاتے ہوئے نوجوان جاں بحق

Written By Hidayat Ullah Farooqi on 21/08/2022 | 1:49 pm

 


کوئٹہ: کوئٹہ کے علاقے سریاب میں کنویں میں ڈوبنے والے کم سن بچے کو نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

بالاچ نوشیروانی نامی نوجوان کم سن بچے کو بچانے کے لیے سیلابی کنویں کے اندر گئے۔  جس وقت واقعہ پیش آیا اس وقت لڑکا کچرا جمع کر رہا تھا۔ بدقسمتی سے نوجوان اور کم سن بچہ بچاؤ کی کوششوں کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔

بالاچ نوشیرو کے ایک کزن بلاول  نے روتے ہوئے بتایا کہ ’بالاچ واپس نہیں آیا‘۔ انہوں نے کہا کہ بالاچ نے کم سن لڑکے کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ لواحقین، دوستوں اور اہل علاقہ نے اپنے طور پر کم سن بچے اور بالاچ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ بلاول نے کہا کہ ہم نے 14 گھنٹے کی کوششوں کے بعد دونوں لاشیں نکال لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی ریسکیو ٹیم 3 گھنٹے بعد موقع پر پہنچی اور وہ بھی بے بس تھی۔

اس دوران بلوچستان کے ضلع مستونگ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ جوانوں کی شناخت جلیل احمد شاہوانی اور امیر حمزہ شاہوانی کے ناموں سے ہوئی اور انہوں نے 14 گھنٹے کی مشقت کے بعد لاشیں نکال لی گئیں۔

جلیل شاہوانی نے بتایا  کہ ہمیں لاشیں نکالنے کے لیے کنویں کے اندر ایک سنگین خطرے کا سامنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کنویں میں اندھیرا تھا جس میں پانی بھر گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین نہیں تھا کہ ہم واپس آ جائیں گے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر قدوس بزنجو کو دونوں نوجوانوں کے لیے انعامات اور نوکریوں کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے ترجمان نے بتایا کہ صوبائی سربراہ نے دو نوجوانوں کو ڈی پی ایم اے میں ملازمت اور ان کے لیے 2-2 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سریاب میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور دونوں جوانوں کی بہادری کو سراہا۔


Al Asir Channel الآسر چینل


 

Click Here



ہندوستان سے

اظہارخیال

 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel