یہ ایک **اردو اسلامی نیوز ویب سائٹ** ہے جہاں علمائے دیوبند کے بیانات، پاکستان و بھارت کی اسلامی خبریں، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ کی تازہ اردو نیوز، مشہور مدارس و جامعات (دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ، جامعہ فاروقیہ) کی معلومات، اسلامی کتب، رسائل اور وفاق المدارس کے نتائج مستند انداز میں شائع کیے جاتے ہیں۔

تازہ ترین
Showing posts with label ہندوستان سے. Show all posts
Showing posts with label ہندوستان سے. Show all posts

بہار میں وزیراعلیٰ کا مسلم خاتون کا نقاب کھینچنا - شرمناک واقعہ

Written By Hidayat Ullah (Admin) on 19/12/2025 | 7:17 pm

بھارت کے ریاست بہار میں وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب کے دوران مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب زبردستی کھینچ دیا، جو نہ صرف ایک ذاتی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ خواتین کے وقار اور مذہبی شناخت پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ یہ واقعہ انسانی وقار اور معاشرتی اقدار کے لحاظ سے انتہائی شرمناک ہے۔

ماہرین، صحافیوں اور سیاسی حلقوں نے اس عمل کو شدید غیر مناسب اور قابل مذمت قرار دیا۔ سیاسی اور سماجی شخصیات نے کہا کہ یہ اقدام خواتین کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مسلمان کمیونٹی نے اس واقعے کی سخت مذمت کی اور  کہا کہ حجاب اور نقاب پر حملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔


واقعے کے بعد لکھنؤ میں سماجی وادی پارٹی کی رہنما نے وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ متاثرہ خاتون ڈاکٹر نے بھی احتجاجاً سرکاری ملازمت قبول نہ کرنے کا اعلان کیا، جس سے معاملہ قانونی اور سماجی بحث کا موضوع بن گیا۔


بھارت میں مسلمانوں کی خواتین اکثر حجاب اور نقاب کے حق پر ہراساں کی جاتی ہیں اور ایسے واقعات معاشرتی تناؤ اور خوف کا سبب بنتے ہیں۔ یہ واقعہ اس دیرینہ مسئلے کی یاد دہانی ہے۔

 

بھارت کے مسلمانوں کو اب بیدار ہونا ہوگا اور اپنی غیرت، شناخت اور وقار کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ خاموشی نے ہمیشہ ظلم کو طاقت دی ہے، جبکہ باوقار آواز نے تاریخ بدلی ہے۔ حجاب، نقاب اور مذہبی آزادی پر حملے دراصل مسلمان عورت کی عزت اور پوری امت کی خودداری پر حملہ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارتی مسلمان متحد ہو کر، آئینی اور پُرامن طریقے سے، ہر زیادتی کے خلاف کھل کر کھڑے ہوں، اپنی خواتین کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور دنیا کو بتائیں کہ مسلمان نہ کمزور ہیں، نہ بے حس، بلکہ اپنے وقار اور ایمان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالنپوری کا انتقال

Written By Al Asir Channel on 19/05/2020 | 7:24 pm



دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالنپوری کا انتقال

معروف اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث و معروف عالم دین مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری کا منگل کی صبح ممبئی میں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا، مرحوم 80برس کے تھے

دیوبند: معروف اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث و معروف عالم دین مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری کا منگل کی صبح ممبئی میں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ مرحوم 80 برس کے تھے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق پھیپھڑوں میں پانی سرایت کر جانے کی وجہ سے مفتی صاحب کو سانسیں لینی میں کافی تکلیف تھی۔وہ ممبئی کے جوگیشوری کے ایک اسپتال میں زیر علا ج تھے۔آج صبح انہوں نے آخری سانس لی۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور دس بیٹے ہیں۔مرحوم کی تدفین اوشیورہ قبرستان،جوگیشوری ویسٹ ممبئی میں ہوئی۔


ریاست گجرات کے ضلع کانٹھا (شمالی گجرات) کے موضع کالیٹرہ میں 1940 میں پیدا ہونے والے مفتی سعید نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن گجرات ہی میں حاصل کی۔ پھر مظاہر علوم سہارنپور میں داخلہ لیا۔ نحو، منطق و فلسفہ کی بیشتر کتابیں وہیں پڑھیں، بعد اذاں 1960ء میں دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور حدیث و تفسیر اور فقہ کے علاوہ دیگر کئی فنون کے ساتھ وہیں سے فتاوی کی ڈگری حاصل کی۔


تکمیل تعلیم کے بعد وہ دار العلوم اشرفیہ راندیر (سورت) میں تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ پھر دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے معزز رکن محمد منظور نعمانی کی تجویز پر میں دار العلوم دیوبند سے وابستہ ہوئے اورتاحیات دارالعلوم میں اپنی تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔مرحوم نے تقریباً 47 سالوں تک دیوبند میں اپنی خدمات انجام دیں۔


دار العلوم میں مختلف فنون کی کتابیں پڑھانے کے ساتھ مفتی صاحب کی ترمذی شریف اور طحاوی کے اسباق طلبہ میں بے حد مقبول تھے۔ دار العلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین نصیر احمد خان کی علالت کے بعد (1429ھ مطابق 2008ء) سے بخاری شریف جلد اول کا درس بھی ان سے متعلق کر دیا گیا جس کے بعد سے تاحیات وہ دار العلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین تھے۔

فقہی سمیناروں میں ان کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی اور ان کے مقالات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی فقہی مہارت کی وجہ سے دار الافتاء دار العلوم کے خصوصی بنچ میں ان کا نام نمایاں طور پر شامل ہوا۔ انہوں نے درس وتدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں۔اشرف علی تھانوی کے مجموعہ فتاویٰ امداد الفتاویٰ پر حاشیہ بھی لکھا ہے،مرحوم تقریباً 12 کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں سے کئی دار العلوم سمیت مختلف دینی مدارس میں شامل نصاب ہیں۔

افغان طالبان نے عیدالفطر کے بعد ’’ ہندوستان ‘‘میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

Written By Al Asir Channel on 17/05/2020 | 7:09 pm



اسلام آباد: (الآسر نیوز ) افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا، اس اعلان کے ساتھ ہی بھاتی حکومت دہل گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے ایک پیغام میں عیدالفطر کے بعد باقاعدہ ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے، اطلاعات ہیں کہ اعلان کے ساتھ ہی بھارت پرخوف کے سائے امڈ آئے ہیں‌۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے معروف صحافی جان اچکزئی نے اہم پیغام ٹویٹ کے ذریعے شیئرکرتے ہوئے افغان طالبان کی طرف سے اس اعلان کو پیش کیا ہے ، یہ بھی بتایا گیا ہےکہ افغان طالبان نے یہ فیصلہ بھارت میں مسلمانوں پرہونے والی کاروائی کی وجہ سے کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان نے یہ فیصلہ بھارت میں آر ایس ایس ، بی جے پی اورایسے ہی دیگر تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اوردوسری اقلیتوں پربے تحاشا مظالم ڈھانےکی وجہ سے کیا ہے ، اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں‌ پر کئے جانے والے مظالم کا بدلہ بھی لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آج انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے مذاکراتی وفد کے چیف نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ منفی کردار ادا کیا ہے اس اعلان میں یہ بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ افغان طالبان بھارت میں عید کے بعد باقاعدہ جہاد شروع کریں گے۔

ارتغل ڈرامے کی بارے میں دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ

Written By Al Asir Channel on 14/05/2020 | 10:13 pm



ارتغل ڈرامے کی بارے میں دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : ارطغرل غازی یا Ertugrul Dirillis ایک ترکی تاریخی ڈرامہ ہے، جس میں خلافتِ عثمانیہ کے بانی عثمان کے والد ارطغرل اور ان کے قبیلہ کے حالات کو فلم بند کیا گیا ہے، لیکن اس کے تمام واقعات مستند اور تصدیق شدہ نہیں ہیں، بلکہ اس داستان میں سچ اور جھوٹ دونوں کی آمیزش ہے۔

معتبر ذرائع سے ملی اطلاع اور آپ کے سوال سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈرامے کے کردار و مناظر بڑے سحر انگیز ہیں، جس کی وجہ سے عوام و خواص بلکہ دیندار افراد تک اس پر فریفتہ ہیں اور اس کے دیوانے بنے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ بعض نام نہاد علماء اور خود ساختہ مفکرین بڑے بڑے مضامین لکھ کر اس کو دیکھنے کی دعوت دے رہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں ضروری ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے ڈراموں کی شرعی حیثیت کو واضح کیا جائے، اور لوگوں کی صحیح رہنمائی کی جائے۔

مذکورہ ڈرامہ اور اس قسم کے دیگر ڈراموں کی فلم بندی کرنے اور اس کو دیکھنے میں شرعاً متعدد قباحتیں موجود ہیں۔

سب سے پہلی قباحت یہ ہے کہ اس میں جان بوجھ کر جھوٹ شامل کیا گیا ہے۔ کیونکہ جھوٹ کی آمیزش کے بغیر ایسے ڈرامے مکمل ہی نہیں ہوسکتے، اور ان میں دلچسپی بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔ جبکہ جھوٹ کی اسلام میں کیا حیثیت ہے وہ اظہر من الشمس ہے کہ وہ ایک گناہِ کبیرہ ہے۔

دوسری یہ ہے کہ ڈرامہ کی عکس بندی کرنا کوئی ایسی شرعی ضرورت نہیں ہے جس کے لیے تصویر کشی کی اجازت ہو۔ لہٰذا بلاضرورتِ شدیدہ ڈیجیٹل تصویر کشی بھی متعدد علماء کرام کی تحقیق کے مطابق جائز نہیں ہے۔

تیسری یہ کہ اس میں عورتوں کے کردار کی وجہ سے مرد و زن کا اختلاط بھی ہے، جبکہ نامحرم عورتوں کو قصداً دیکھنا ناجائز اور حرام ہے، شریعت نے اسے آنکھ کے زنا سے تعبیر کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں (زنا کرتی ہیں) کہ ان کا زنا نامحرم کو دیکھنا ہے۔ (مسنداحمد)
ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ہدایت فرمائی کہ اے علی ! نگاہ کے بعد نگاہ نہ ڈالو کہ نگاہ اول (بلا ارادہ کے اچانک نظر) قابلِ عفو ہے، دوسری نظر (جو قصداً ہو) معاف نہیں۔ (ابوداؤد) نیز اس ڈرامے میں محبت کی داستان بھی شامل کی گئی ہے، چنانچہ عشق و معاشقہ کے مواد ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے اخلاق متأثر ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

چوتھی اس ڈرامہ میں بیک گراؤنڈ میوزک بھی ہے، اور موسیقی کے بارے میں آپ علیہ السلام کا واضح فرمان ہے کہ موسیقی دلوں میں نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔

پانچویں قباحت یہ ہے کہ اس قسم کے ڈراموں کو تبلیغِ دین، اصلاح اور بیداری کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پردہ اسکرین پر جو کچھ لوگوں کو دکھایا جاتا ہے اس کا اصلاحی اثر وقتی ہوتا ہے، اور ان ڈراموں اور داستانوں سے پیدا ہونے والے جذبات کی عمر پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلے میں کتابی اثر دیر پا ہوتا ہے اور تاریخ کی معتبر کتابیں ہی حقیقی اثر پیدا کرسکتی ہیں، تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے مستند تاریخی کُتب ہی قلب کی تسکین کا باعث ہوسکتی ہیں، افسانے اور ڈرامے نہیں۔

معلوم ہونا چاہیے کہ ماضی میں متعدد اسلامی ممالک اور امریکہ میں بھی اس قسم کی نام نہاد اصلاحی و تبلیغی کوششیں کی گئیں، اور انبیاء کرام اور صحابہ کرام کی زندگیوں پر کئی فلمیں اور ڈرامے بنائے گئے، جن میں دس پیغام، الرسالہ، وغیرہ فلمیں قابلِ ذکر ہیں، لیکن یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ ایسی فلمیں غیرمسلموں بلکہ مسلمانوں پر بھی کوئی مثبت و دیرپا اثرات ڈالنے میں ناکام رہیں، بالفرض اگر ان فلموں کا کچھ اثر ہورہا ہوتو تب بھی معصیت کے اس مجموعہ کی گنجائش بالکل نہیں ہوسکتی۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس طرح کی فلموں میں جو کردار اسکرین پر دکھائے جائیں گے ناظرین کے ذہنوں میں اس شخصیت کی وہی تصویر بن جاتی ہے، پھر جب بھی اس شخصیت کا ذکر نکلے گا، ناظرین کے ذہنوں میں اسی اداکار کی تصویر سامنے آئے گی۔ مثلاً کسی ڈرامہ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا کردار بتایا گیا، اس کردار کو ادا کرنے والے کی شکل ناظرین کے ذہنوں میں بیٹھ جائے گی، پھر جب بھی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوگا، اسی اداکار کی شکل ذہن میں آجائے گی، جبکہ ہوسکتا ہے وہ اداکار مسلمان ہی نہ ہو، یا مسلمان تو ہو لیکن فاسق و فاجر ہو، اداکار خواہ کچھ بھی ہو، لیکن صحابہ کرام کے مرتبہ کا تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اسلام کی ایسی عظیم اور مقدس ہستیوں کے ذکر کے وقت اداکاروں کی شکل و صورت ذہن میں آنا بذاتِ خود ایک بڑی قباحت ہے۔

لہٰذا اتنی ساری قباحتیں جس چیز میں موجود ہوں وہ بلاشبہ ناجائز عمل ٹھہرے گا، ترکی صدر کا اس کی حمایت کرنا کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔ ایسے ڈراموں کا بنانا، اس کا دیکھنا اور اس کے دیکھنے کی ترغیب دینا شرعاً ناجائز ہے، نیز اس پر مال لگانا بھی تعاون علی المعصیت اور سخت گناہ کی بات ہے، مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
وفي الحدیث : والعینان تزنیان وزناہما النظر۔ (مسند أحمد بن حنبل ۲؍۳۴۲)

استماع الملاھی و الجلوس علیہا وضرب المزامیر والرقص کلہا حرام‘‘ ومستحلہا کافر وفی الحمادیۃ من النافع اعلم ان التغنی حرام فی جمیع الادیان۔ (جامع الفتاوی، ۱/ ۷۳ ط کتب خانہ رحیمیہ دیوبند)

آخری عشرہ اور عیدالفطر سے متعلق امیر الہند مولانا قاری عثمان منصورپوری کی اپیل

Written By Al Asir Channel on 13/05/2020 | 7:05 pm




آخری عشرہ اور عیدالفطر سے متعلق امیر الہند مولانا قاری عثمان منصورپوری کی اپیل


نئی دہلی: 12؍مئی (پریس ریلیز) أمیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمدعثمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی صدر جمعیۃ علماء ہندنے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے لمحات کو غنیمت سمجھیں، بالخصوص آخری عشرہ میں عبادت وریاضت کا خاص اہتمام رکھیں؛ اِس لئے کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جس قدر عبادت میں محنت فرماتے تھے، اتنا دوسرے ایام میں نہیں فر ماتے تھے اور اُم المؤمنین سیدتناحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے، گھر والوں کو بھی عبادت کے لئے جگاتے تھے، اور کمر کس لیا کرتے تھے۔ (مسلم شریف 372/1)

نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا بھی حکم دیا ہے۔ شب قدر وہ قیمتی رات ہے جس میں عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینے (تقریباً تراسی سال) کی عبادت سے بھی بڑھ کر ہے، اِسی غرض سے آپ نے آخری عشرہ کے اعتکاف کا اہتمام فرمایا، اِس لئے اِس موقع کو ہرگز ضائع نہ کریں؛ بلکہ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے ان راتوں میں انفرادی اعمال میں مشغول رہیں، اور احتیاطی تدابیر اور حکومتی ہدایات کی مکمل پابندی کریں، اور ملک وملت اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے دعا کرتے رہیں۔
مولانا موصوف نے صاحبِ وسعت لوگوں کو عید سے پہلے اپنی طرف سے اور اپنے ماتحتوں کی طرف سے صدقہ فطر کی ادائیگی کی بھی ترغیب دی۔اور یہ بھی فرمایا کہ: ”اگر عید تک پابندیاں نہ ہٹائی گئیں، تو جس طرح اَب تک جن مساجد اور دیگر جگہوں میں شرائط کے ساتھ نماز جمعہ اَدا کی جارہی ہے، اِسی طرح عید کی نماز بھی اَدا کی جائے؛ کیوں کہ عید کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو جمعہ کے لئے ہیں۔ اِس لئے پوری کوشش کی جائے کہ شرعی شرائط اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے عید کی نماز اَدا کی جائے۔
البتہ جو اَفراد کسی وجہ سے عید کی جماعت میں کہیں بھی شریک نہ ہوسکیں، تو صرف اُن کے لئے بہتر ہے کہ وہ چار رکعت چاشت کی نفل نماز تکبیراتِ زوائد کے بغیر تنہا تنہا پڑھ لیں، اور رمضان المبارک اور روزہ کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائیں“اور بہرحال عید کے دن خوشی کا اظہار کریں؛ لیکن عید سادگی سے منائیں، اور اعزہ واقارب سے ملنے میں طبی وسرکاری ہدایات کو ضرور ملحوظ رکھیں؛ تاکہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کے لئے خیر وعافیت کے فیصلے فرمائیں، اور موجودہ وبا کو پورے عالم سے ختم فرمادیں، آمین۔
Maulana Qari Usman Mansoorpuri
Jamiat Ulema e Hind President
 

Copyright © 2011. Al Asir Channel Urdu Islamic Websites Tarjuman Maslak e Deoband - All Rights Reserved
Template Created by piscean Solutions Published by AL Asir Channel
Proudly powered by AL Asir Channel